شفاعت کے بغیربخشش نہیں، درود شریف کے بغیرشفاعت نہیں

فضائل درود وسلام اور فرمان مصطفیٰ کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم

  Uploaded: Friday, May 15, 2015 - 5:26 PM

پیرآف اوگالی شریف خوشاب‎
درود (رحمت) بھیجتا ہے۔ اور اﷲ تعالیٰ اس کے لئے دس نیکیاں بھی اس (درود پڑھنے) کے بدلے میں لکھ دیتا ہے۔
:: مسلم شریف، کتاب : الصلاة، 1 / 306، الرقم : 408،
نسائی شریف، کتاب : السهو،3 / 50، الرقم : 1296،
ترمذی شریف، أبواب : الوتر عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء في فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 2 / 353، 354، الرقم : 484،

حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو (اس دنیا میں) ان میں سے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتا ہے۔
:: ترمذی شریف، وسلم، باب : ماجاء في فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 2 / 354، الرقم : 484،

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (میری امت میں سے کوئی شخص) ایسا نہیں جو مجھ پر سلام بھیجے مگر اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر میری روح واپس لوٹا دی ہوئی ہے یہاں تک کہ میں ہر سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
:: أبوداود شریف، کتاب : المناسک، باب : زيارة القبور، 2 / 218، الرقم : 2041،

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے دس گناہ معاف کیے جاتے ہیں اور اس کے لئے دس درجات بلند کیے جاتے ہیں۔
:: نسائی شریف، کتاب : السهو، باب : الفضل في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 50، الرقم : 1297،

حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو، بیشک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔
:: مسند امام أحمد بن حنبل عن أبي هريرة رضي الله عنه في ، 2 / 367، الرقم : 8790، طبراني في المعجم الکبير، 3 / 82، الرقم : 2729،معجم الأوسط، 1 / 17، الرقم : 365،ديلمی فی مسند الفردوس، 5 / 15، الرقم : 7307 منذری فی الترغيب والترهيب، 2 / 326، الرقم : 2571.

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ اقدس پر خوشی ظاہر ہو رہی تھی.آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابھی ابھی جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا : آپ کا رب فرماتا ہے : اے محمد! کیا آپ اس بات پر راضی نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص ایک مرتبہ آپ پر درود بھیجے، میں اس پر دس رحمتیں بھیجوں؟ اور آپ کی امت میں سے کوئی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں۔
:: نسائی شریف،کتاب : السهو، باب : الفضل في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم 3 / 50، الرقم 1295،

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ یقیناً دعا اس وقت تک زمین اور آسمان کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اور اس میں سے کوئی بھی چیز اوپر نہیں جاتی جب تک تم اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ پڑھ لو۔
:: ترمذی شریف،کتاب : الصلاة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : ماجاء في فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 2 / 356 الرقم 486،

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر دعا اس وقت تک پردہ حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پراور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت پر درود نہ بھیجا جائے۔
:: معجم الأوسط، 1 / 220، الرقم : 721،

حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر ستر مرتبہ (بصورتِ رحمت) درود بھیجتے ہیں۔
:: مسندامام احمد بن حنبل، 2 / 172، 187، الرقم : 6605. 6754،

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو لوگ کسی مجلس میں اکٹھے ہوئے اور پھر (اس مجلس میں) اللہ تعالیٰ کا ذکر اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے بغیر وہ منتشر ہو گے تو وہ مجلس ان کے لئے قیامت کے روز باعث حسرت (و باعثِ خسارہ) بننے کے سوا اور کچھ نہیں ہو گی۔
:: مسندامام احمد بن حنبل،2 / 446، الرقم : 9763،

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی قوم کسی بیٹھنے کی جگہ (یعنی مجلس میں) بیٹھے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے تو وہ مجلس روزِ قیامت ان کے لئے حسرت (و خسارہ) کا باعث ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوگی اگرچہ وہ لوگ جنت میں بھی داخل ہو جائیں (لیکن انہیں ہمیشہ اس بات کا پچھتاوا رہے گا)
:: مجمع الزوائد، 10 / 79

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتوں کا نزول فرماتا ہے اور جو شخص مجھ پر دس مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے اور جو شخص مجھ پر سو مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (یعنی پیشانی پر) منافقت اور آگ (دونوں) سے ہمیشہ کے لئے آزادی لکھ دیتا ہے اور روزِ قیامت اس کا قیام (اور درجہ) شہداء کے ساتھ ہو گا۔
:: الترغيب والترهيب، 2 / 323، الرقم : 2560،

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر درود پڑھا کرو بلاشبہ (تمہارا) مجھ پر درود پڑھنا تمہارے لئے (روحانی و جسمانی) پاکیزگی کا باعث ہے۔
:: هناد فی الزهد، 1 / 117، الرقم : 147،

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت مجھ پر دس دفعہ درود بھیجے گا اسے قیامت کے روز میری شفاعت نصیب ہو گی۔
:: مجمع الزوائد، 10 / 120،
صلی اللہ علیک وآلہ وسلم یا حبیب اللہ