قرآن مجید اور ذکر مصطفیٰ کریم ﷺ

  Uploaded: Friday, May 15, 2015 - 5:30 PM

پیرآف اوگالی شریف خوشاب‎

ﷲ رب العزت نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکرِ جمیل پیرایۂ نعت میں کیا ہے۔ خالقِ کائنات اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی روئے خطاب ہوا تونام لینے کی بجائے کبھی يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ کہا اور کبھی يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ اور کبھی یٰسین کے لقب سے پکارا۔ اِسی طرح کلامِ مجید میں کہیں وَالضُّحَى کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رُخِ اَنور کی قسم کھائی اور کہیں وَاللَّيْلِ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبِ تاریک کی مانند سیاہ زلفوں کی قسم کھائی۔ ہمہ قرآن دَر شانِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مصداق پورا قرآن حکیم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح اور نعت ہی تو ہے۔ اِس کے پیرایۂ اِظہار میں نعت ہی کا رنگ صاف جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ قرآن حکیم کی درج ذیل آیات سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرف و فضیلت اور رِفعت و عظمت کا پہلو اُجاگر ہو رہا ہے جب کہ نعت کا موضوع بھی یہی قرار پاتاہے۔ اگر کوئی اِعتراض کرے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت پڑھنا اور سننا (معاذ اﷲ) ناجائز ہے تو یہ مندرجہ بالا آیات میں بیان کیے گئے مضمون کے اِنکار کے مترادف ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرحِ صدر، رفعِ بارِ غم اور رِفعتِ ذکر کو قرآن حکیم میں یوں بیان کیا گیا ہے :

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَO وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَO الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَO وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَO

’’کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ (اَنوارِ علم و حکمت اور معرفت کے لیے) کشادہ نہیں فرما دیاo اور ہم نے آپ کا (غمِ اُمت کا وہ) بار آپ سے اتار دیاo جو آپ کی پشتِ (مبارک) پر گراں ہو رہا تھاo اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیاo‘‘
الإنشراح، 94 : 1 - 4

اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے ہمہ وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج رہے ہیں۔ اِرشاد فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًاO
الأحزاب، 33 : 56

’’بے شک اللہ اور اُس کے (سب) فرشتے نبيّ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (بھی) اُن پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کروo‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے بارے میں فرمایا :

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO
’’اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اِس لیے کہ اﷲ کے حکم سے اُس کی اِطاعت کی جائے، اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اﷲ سے معافی مانگتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اُن کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اﷲ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘
النساء، 4 : 64

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِطاعت کو اپنی اِطاعت قرار دیا :

مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّهَ وَمَن تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًاO

’’جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم مانا بے شک اُس نے اﷲ (ہی) کا حکم مانا، اور جس نے رُوگردانی کی تو ہم نے آپ کو اُن پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجاo‘‘
النساء، 4 : 80

تورات و انجیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تذکرئہ اَوصاف کے ضمن میں فرمایا :

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلاَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِي أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَO

’’(یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے ہیں جو اُمی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر مِن جانبِ اﷲ لوگوں کو اَخبارِ غیب اور معاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) جن (کے اَوصاف و کمالات) کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور اِنجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو اُنہیں اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو حرام کرتے ہیں اور اُن سے اُن کے بارِ گراں اور طوقِ (قیود) جو اُن پر (نافرمانیوں کے باعث مسلط) تھے ساقط فرماتے (اور اُنہیں نعمتِ آزادی سے بہرہ یاب کرتے) ہیں۔ پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اُس نورِ (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیںo‘‘
الأعراف، 7 : 157

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رِسالتِ عامہ کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا :

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

’’آپ فرما دیں : اے لوگو! میں تم سب کی طرف اُس اللہ کا رسول (بن کر آیا) ہوں جس کے لیے تمام آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔‘‘
الأعراف، 7 : 158

معرکۂ بدرمیں کفار پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کنکریاں پھینکنے کے عمل کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا :

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـكِنَّ اللّهَ رَمَى.

’’اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگ ریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اﷲ نے مارے تھے۔‘‘
الانفال، 8 : 17

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی اُمت پر رؤوف و رحیم ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌO

’’بے شک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لیے نہایت (ہی) شفیق، بے حد رحم فرمانے والے ہیںo‘‘
التوبه، 9 : 128

اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک کی یوں قسم کھاتا ہے :

لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَO
الحجر، 15 : 72

’’(اے حبیبِ مکرّم!) آپ کی عمر مبارک کی قسم! بے شک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیںo‘‘

۔ اﷲ تعالیٰ کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشقت میں پڑنا گراں گزرا تو فرمایا :

طهO مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىO

’’طٰہٰ (اے محبوبِ مکرّم!)o ہم نے آپ پر قرآن (اِس لیے) نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیںo‘‘
طٰهٰ، 20 : 1، 2

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ رحمۃً للعالمینی کو درج ذیل آیت میں بیان فرمایا :

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَO

’’اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کرo‘‘
الأنبياء، 21 : 107

۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب سکھاتے ہوئے فرمایا :

لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌO

’’(اے مسلمانو!) تم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں تو خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے)، بے شک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رِسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اَمرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گاo‘‘
النور، 24 : 63

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام ایمان والوں کی جانوں سے زیادہ قریب قرار دیتے ہوئے فرمایا :

النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ.

’’یہ نبیء (مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اَزواجِ (مطہرات) ان کی مائیں ہیں۔‘‘
الأحزاب، 33 : 6

اللہ تعالیٰ نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شاہد، مبشر، نذیر، داعی اور سراجِ منیر بنا کر بھیجا۔ اِرشاد فرمایا :

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًاO وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًاO
الأحزاب، 33 : 45، 46

’’اے نبیء (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوش خبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہےo اور اُس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)o‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِن بے مثال شانوں کو ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا :

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًاO لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًاO

’’بے شک ہم نے آپ کو (روزِ قیامت گواہی دینے کے لیے اَعمال و اَحوالِ اُمت کا) مشاہدہ فرمانے والا اور خوش خبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہےo تاکہ (اے لوگو!) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان (کے دین) کی مدد کرو اور ان کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) اﷲ کی صبح و شام تسبیح کروo‘‘
الفتح، 48 : 8، 9

ایک مقام پر اﷲ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بہ طریقِ نعت یوں بیان فرمائی :

يسO وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِO إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَO

’’یاسین (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o حکمت سے معمور قرآن کی قَسمo بے شک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیںo‘‘
يٰسين، 36 : 1 - 3
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کو اپنی بیعت قرار دیتے ہوئے فرمایا :

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًاO

’’اے (حبیب !) بے شک جو لو گ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اللہ کا ہاتھ ہے، پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اُس نے اللہ سے عہد کیا تھا تو وہ عن قریب اسے بہت بڑا اَجر عطا فرمائے گاo‘‘
الفتح، 48 : 10

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے اونچی آواز کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسروں کی مثل پکارنے پر اَعمال کے ضائع ہو جانے کی وعید سناتے ہوئے فرمایا :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَO
الحجرات، 49 : 2

’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیء مکرّم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اَعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہوجائیں اور تمہیں (ایمان اور اَعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہوo‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے پست آواز رکھنے کو تقویٰ کا معیار قرار دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا :

إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌO

’’بے شک جو لوگ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں (اَدب و نیاز کے باعث) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اﷲ نے تقویٰ کے لیے چُن کر خالص کر لیا ہے، ان ہی کے لیے بخشش ہے اور اَجرِ عظیم ہےo‘‘
الحجرات، 49 : 3

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واقعۂ معراج بیان کرتے ہوئے فرمایا :

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُO
’’وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اَقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo‘‘
بني اسرائيل، 17 : 1

۔ سورۃ النجم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعہ معراج کو تفصیلاً نہایت ہی حسین پیرایہ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا :

وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىO مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىO وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىO إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىO عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىO ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىO وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىO ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىO فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىO فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَىO مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىO أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَىO وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىO عِندَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَىO عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىO إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىO مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىO لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىO
النجم، 53 : 1 - 18

’’قَسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اُترےo تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (یعنی تمہیں اپنے فیضِ صحبت سے صحابی بنانے والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکےo اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتےo اُن کا اِرشاد سَراسَر وحی ہوتی ہے جو اُنہیں کی جاتی ہےo ان کو بڑی قوتوں و الے (رب) نے (براہِ راست) علمِ (کامل) سے نوازاo جو حسنِ مُطلَق ہے، پھر اُس (جلوۂ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایاo اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)o پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیاo پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (اِنتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)o پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائیo (اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھاo کیا تم ان سے اِس پر جھگڑتے ہو کہ جو انہوں نے دیکھاo اور بے شک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)o سِدرۃ المنتہیٰ کے قریبo اسی کے پاس جنت الماویٰ ہےo جب نورِ حق کی تجليّات سِدرَۃ (المنتہیٰ) کو (بھی) ڈھانپ رہی تھیں جو کہ (اس پر) سایہ فگن تھیںo اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی)o بے شک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیںo‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلقِ عظیم کو یوں بیان فرمایا :

وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍO

’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزيّن اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متصف ہیں)o‘‘
القلم، 68 : 4

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا :

لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِO وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِO وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَO

’’میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوںo (اے حبیبِ مکرم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo (اے حبیبِ مکرم! آپ کے) والد (آدم یا اِبراہیم علیہما السلام) کی قسم اور (اُن کی) قسم جن کی ولادت ہوئیo‘‘
البلد، 90 : 1 - 3
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور اور گیسوئے عنبریں کی قسموں اور چند دیگر خصائل کا تذکرہ یوں فرمایا :

وَالضُّحَىO وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىO مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىO وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىO وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىO أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىO وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىO وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىO فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْO وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْO وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْO

’’(اے حبیبِ مکرم!) قسم ہے چاشت (کی طرح آپ کے چہرۂ اَنور) کی (جس کی تابانی نے تاریک روحوں کو روشن کردیا)o اور (اے حبیبِ مکرم!) قسم ہے سیاہ رات کی (طرح آپ کی زلفِ عنبریں کی) جب وہ (آپ کے رخِ زیبا یا شانوں پر) چھا جائےo آپ کے رب نے (جب سے آپ کو منتخب فرمایا ہے) آپ کو نہیں چھوڑا او رنہ ہی (جب سے آپ کو محبوب بنایا ہے) ناراض ہوا ہےo اور بے شک (ہر) بعد کی گھڑی آپ کے لیے پہلی سے بہتر (یعنی باعثِ عظمت و رفعت ) ہےo اور آپ کا رب عن قریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گےo (اے حبیب!) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر اس نے (آپ کو معزز و مکرم) ٹھکانا دیاo اور اس نے آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ و گم پایا تو اس نے مقصود تک پہنچا دیاo اور اس نے آپ کو (وصالِ حق کا) حاجت مند پایا تو اس نے (اپنی دید کی لذت سے نواز کر ہمیشہ کے لیے ہر طلب سے) بے نیاز کر دیاo سو آپ بھی کسی یتیم پر سختی نہ فرمائیںo اور (اپنے دَر کے) کسی منگتے کو نہ جھڑکیںo اور اپنے رب کی نعمتوں کا (خوب) تذکرہ کریںo‘‘
الضحي، 93 : 1 - 11

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیرِ کثیر عطا کیے جانے کا ذکر یوں فرمایا :

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَO فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْO إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُO
الکوثر، 108 : 1 - 3

’’بے شک ہم نے آپ کو (ہر خیر و فضیلت میں) بے انتہا کثرت بخشی ہےo پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کریں اور قربانی دیا کریں (یہ ہدیۂ تشکر ہے)o بے شک آپ کا دشمن ہی بے نسل اور بے نام و نشاں ہوگاo‘‘