درود وسلام کے فضائل وبرکات

  Uploaded: Saturday, May 16, 2015 - 5:40 PM

پیرآف اوگالی شریف خوشاب‎
حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کسی مجلس میں بیٹھو تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم اور صلی اﷲ علٰی محمد کہو تو اﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کر دے گا جو تمہیں غیبت کرنے سے باز رکھے گا۔ :: قول البديع : 133،علامہ سخاوی

حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ شام کا ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک میرا باپ بوڑھا ہے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کا مشتاق ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا کہ اپنے باپ کو میرے پاس لے آؤ آدمی نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نابینا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو کہو کہ وہ سات راتیں ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) پڑھ کر سوئے بے شک (اس عمل کے بعد) وہ مجھے خواب میں دیکھ لے گا اور مجھ سے حدیث روایت کرے گا آدمی نے ایسا ہی کیا تو اس کو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ :: القول البديع : 133

حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) کہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لیے اپنی رحمت کے ستر دروازے کھول دیتا ہے۔ :: قول البديع : 133

حضرت خضر بن ابو عباس اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مؤمن بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے دل کو ترو تازہ اور منور کردیتا ہے۔ :: قول البديع : 132

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد حضرت سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کثرت ذکر اور مجھ پر درود بھیجنا فقر کو ختم کر دیتا ہے۔ :: قول البديع، 129
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرئیل سے پوچھا اﷲ کے ہاں محبوب ترین عمل کون سے ہیں؟ تو جبرئیل نے کہا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا۔ :: قول البديع، 129

حضرت علی علیہ السلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت والے دن تین اشخاص اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے کہ جس دن اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ (تین اشخاص) کون ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک وہ شخص جس نے میری امت کے کسی مصیبت زدہ سے مصیبت کو دور کیا دوسرا وہ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اور تیسرا وہ جس نے کثرت سے مجھ پر درود بھیجا۔:: قول البديع : 123

کثرتِ درود و سلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری کی حاضری نصیب کرتا ہے۔
زمین کے ٹکڑے بھی جن پر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے، اس شخص پر فخر کرتے ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے اور جہنم کی آگ کے درمیان ڈھال بن جائے گا۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے تمام اہل عمل سے آخرت میں سبقت لے جائیں گے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے کی روح اعلیٰ مقامات پر فائز کی جاتی ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور کی انجام دہی کو آسان بنا دیتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور میں حائل مشکلات کو رفع کر دیتا ہے
درود و سلام کی مجالس فرشتوں کی مجالس اور جنت کے باغات ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل کی مفلسی اور اس کے غموں کو دور کرتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ولایت کی طرف جانے والا راستہ ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ایسی عبادت ہے جو تمام اوقات اور احوال میں بلاشرط جائز ہے اس کے وقت کی کوئی پابندی نہیں یہ عبادت ہر وقت ادا ہے اس میں قضا نہیں ہے جبکہ دوسری تمام عبادات ایسی نہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا جنت کی شادابی عطا کرتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے کے لئے دنیا، قبر اور یوم آخرت میں نور کا باعث بنتا ہے۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے سے فرشتے کا درود بھیجنے والے کو اپنے پروں کے ساتھ گھیر لیتے ہیں۔
نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا طبیعت اور مزاج سے وحشت کو ختم کر دیتا ہے۔

کسی عارف شخص سے روایت ہے کہ جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے اس سے ایک نہایت ہی پاکیزہ خوشبو پیدا ہوتی ہے جو آسمان کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے (اس خوشبو کی وجہ سے) فرشتے کہتے ہیں یہ اس مجلس کی خوشبو ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا گیا۔:: سعادة الدارين : 471،علامہ نبھانی

 


حضرت امام ابی القاسم القشیری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے رسالہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے تجھ میں دس ہزار کان پیدا فرمائے یہاں تک کہ تو نے میرا کلام سنا اور دس ہزار زبانیں پیدا فرمائیں جس کے سبب تو نے مجھ سے کلام کیا۔ تو مجھے سب سے زیادہ محبوب اور نزدیک ترین اس وقت ہوگا جب تو محمد عربی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود شریف بھیجے گا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔ فرمایا کہ، “بروز قیامت اللہ تعالٰی کے حکم سے حضرت ابو البشر آدم علیہ السلام عرش الٰہی کے پاس سبز حلہ پہن کر تشریف فرما ہوں گے اور یہ دیکھتے ہوں گے کہ میری اولاد میں کس کس کو جنت میں لے جاتے ہیں اور کس کس کو دوزخ لے جاتے ہیں۔
اچانک آدم علیہ السلام دیکھیں گے کہ سید انبیاء و المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ایک امتی کو فرشتے دوزخ لے جا رہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام یہ دیکھ کر ندا دیں گے۔ اے اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم آپ کے ایک امتی کو ملائکہ کرام دوزخ لے جا رہے ہیں۔ سید دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ یہ سن کر میں اپنا تہبند مضبوط پکڑ کر ان فرشتوں کے پیچھے دوڑوں گا اور کہوں گا، اے رب تعالٰی کے فرشتو ! ٹھہر جاؤ۔
فرشتے یہ سن کر عرض کریں گے۔ “یا حبیب اللہ ! ہم فرشتے ہیں اور فرشتے اللہ کی حکم عدولی نہیں کر سکتے اور وہ کام کرتے ہیں جس کا ہمیں دربار الٰہی سے حکم ملتا ہے۔ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنی ریش مبارک پکڑ کر دربار الٰہی میں عرض کریں گے۔ اے میرے رب کریم کیا تیرا میرے ساتھ یہ وعدہ نہیں ہے کہ تجھے تیری امت کے بارے میں رسوا نہیں کروں گا تو عرش الٰہی سے حکم آئے گا۔ اے فرشتو ! میرے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو اور اس بندے کو واپس میزان پر لے چلو۔ فرشتے اس کو فوراً میزان کے پاس لے جائیں گے اور جب اس کے اعمال کا وزن کریں گے تو میں اپنی جیب سے ایک نور کا سفید کاغذ نکالوں گا اور بسم اللہ شریف پڑھ کر نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دوں گا تو اس کا نیکیوں والا پلڑا وزنی ہو جائے گا۔
اچانک ایک شور برپا ہوگا کہ کامیاب ہو گیا، کامیاب ہوگا۔ اس کو جنت میں لے جاؤ۔ جب فرشتے اسے جنت کو لے جاتے ہوں گے تو وہ کہے گا، اے میرے رب کے فرشتو ! ٹھہرو میں اس بزرگ سے کچھ عرض کر لوں۔
تب وہ عرض کرے گا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کا کیسا نورانی چہرہ ہے اور آپ کا خلق کتنا عظیم ہے۔ آپ نے میرے آنسوؤں پر رحم کھایا اور میری لغزشوں کو معاف کرایا۔ آپ کون ہیں ؟ فرمائیں گے، میں تیرا نبی محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہوں اور یہ تیرا درود پاک تھا جو تونے مجھ پر پڑھا ہوا تھا۔ وہ میں نے تیرے آج کے دن کے لئے محفوظ رکھا ہوا تھا۔“
(القول البدیع ۔ ص123، معارج النبوۃ، ص 303 جلد1